سیسا جابر، 40 برس مرد کے بھیس میں مزدوری کرنے والی مصری خاتون

ماں کی عظمت و محبت کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اپنی اولاد کے سکھ کے لیے خود تکلیفیں جھیلتی ہے اور مشقت برداشت کر کے اولاد کو آرام پہنچاتی ہے۔ اولاد کی بہترین راہ نمائی کرنے والی اور سب سے بڑھ کر اولاد کے لیے بہترین پناہ گاہ ماں ہی ہوتی ہے۔ رب کائنات نے ماں کو اتنا بڑا درجہ عطا کیا کہ اس کے پیروں تلے جنت رکھ دی۔
ہمیں اپنے ارد گرد ایسی بے شمار مائیں نظر آتی ہیں، جو صبح سے شام تک اولاد کی خاطر دفاتر میں کام کرنے سے لے کر دوسروں کے گھروں میں جھاڑو پونچھا کرتی ہیں، وہ گھرانے جہاں خواتین کے کام کرنے کو پسند نہیں کیا جاتا وہ خواتین بھی گھر بیٹھے اولاد کے بہتر مستقبل کے لیے معاشی خوش حالی کے لیے تگ و دو کرتی نظر آتی ہیں۔

لیکن مصری خاتون سیسا جابر ایک ایسی ماں ہیں، جنہوں نے اپنی بیٹی کی بہترین پرورش کے لیے ایثار کی ایسی مثال قائم کی، جس کی رہتی دنیا تک مثال ملنا ناممکن ہے۔ سیسا جابر نے مرد کے بھیس میں 40 سال مزدوری کی۔ مصر کی اس عظیم ماں نے مردانہ روپ دھار کر اپنی اولاد کی کفالت کے لیے چار عشروں سے زاید عرصہ گزارا۔ سیسا جابر کو مصر کے صدر عبدالفاتح السیسی نے بھی ان کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعلیٰ مصری اعزاز سے نوازا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق 65 برس کی سیسا جابر القصر شہر کے اپنے آبائی قصبے میں سب سے زیادہ مددگار ماں بن گئی ہیں اور یوم ماں کے موقع پر انہیں وزارت سماجی یک جہتی کی جانب سے انہیں ’’کفالت‘‘ ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔
سیسا جابر کی داستانِ حیات جوں ہی منظر عام پر آئی، توں ہی دنیا بھر کے اخبارات میں شہ سرخیوں کی زینت بنی۔ وہ 21 برس کی عمر میں بیوگی سے دوچار ہو گئیں۔ کچھ دن بعد ان کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوئی اور یوں وہ اپنی ایک بیٹی کے ساتھ بے یارومددگار رہ گئیں، لیکن اس ایثار پیشہ ماں نے اپنی اکلوتی بیٹی کے لیے انہوں نے مرد کا بھیس بدل کر کام کرنا شروع کر دیا۔ ان کا تعلق مصری معاشرے کے پس ماندہ حصے سے ہے جہاں خواتین کے کام کرنے کو پسند نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے ڈھیلے ڈھالے روایتی مردانہ لباس پہن کر موچی، مزدور اور کاشت کاری کا کام کیا۔   ایک طرف جہاں یہ ایک عورت اور ایک ماں کی جدوجہد کی داستان ہے، تو دوسری طرف مردوں کے اس سماج کا المیہ بھی ہے،جہاں ایک اکیلی عورت کو اپنی اولاد کی بقا کی خاطر مرد کا روپ دھارنا پڑتا ہے۔

Share this

Related Posts

Previous
Next Post »

Comment here