داعش میں شمولیت کے بعد بھاگ کر واپس آجانے والی نوجوان لڑکی نے اپنے فرار کی ایسی کہانی سنادی کہ دنیا کو حیران کردیا، واپسی پر کسی نے پکڑا کیوں نہیں؟

کم سن بچے سمیت شام پہنچ جانے والی فرانسیسی خاتون کے بعد اب ایک برطانوی لڑکی کی بھی ایسی ہی عبرتناک کہانی سامنے آگئی ہے، اور یہ بھی داعش میں شمولیت کے شوق میں اپنے ایک سالہ بچے کو لے کر شام پہنچ گئی تھی۔ ترکی کے راستے شام میں داخل ہونے کے بعد جب یہ 26 سالہ لڑکی اپنے ننھے بیٹے کے ساتھ داعش کے دارالحکومت رقہ پہنچی تو اصل حقائق دیکھ کر آنکھیں کھل گئیں۔
اخبار ’ڈیلی سٹار‘ کے مطابق ترینہ شکیل نامی اس لڑکی کا کہنا ہے کہ جب یہ رقہ پہنچی تو اسے فوری طور پر ایک بہت بڑے گھر میں پہنچایا گیا جہاں اس کے ساتھ درجنوں کنواری لڑکیوں کو رکھا گیا تھا۔ ترینہ کا کہنا ہے کہ رقہ میں یہی قانون ہے کہ کوئی بھی کنواری اور خوبصورت لڑکی میسر ہو تو اسے کسی جنگجو کی دلہن بننے سے پہلے کہیں آنے جانے کی اجازت نہیں۔ ترینہ نے اس جگہ تین ماہ قیام کے دوران خود کو کافی معصوم اور نا سمجھ ثابت کرنے کی کوشش جاری رکھی، اور اس دوران قریب ہی واقعہ ایک گھر میں تانیہ نامی خاتون کے ساتھ دوستی بھی بڑھائی۔ اسی خاتون نے بالآخر اسے ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ذریعے ترکی کی سرحد کی طرف روانہ کردیا۔

مزید جانئے: فرانس میں ہزاروں مساجد کے دروازے عام لوگوں کیلئے کھول دئیے گئے
خطرناک سفر کے دوران انہیں جہاں بھی روکا گیا وہیں ترینہ نے بتایا کہ وہ سرحدی علاقے میں اپنے شوہر کے پاس جا رہی ہے۔ بالآخر ڈرائیور نے سرحد کے قریب پہنچ کر ترکی کی طرف اشارہ کردیا۔ وہ گاڑی سے نکلی اور اپنے ننھے بچے کو اٹھا کر بے اختیار ترکی کی سرحد کی طرف دوڑ لگادی۔ ترینہ کا کہنا ہے کہ اس پر خوف طاری تھا کہ داعش کے جنگجو اس پر گولیاں برسادیں گے، لیکن اسے ترکی کے سرحدی اہلکار سامنے نظر آرہے تھے، اور وہ دیوانہ وار بھاگتی رہی، بھاگتی رہی، بھاگتی رہی۔ بالآخر وہ ترک سرحد پر پہنچ گئی تو اسے اہلکاروں نے محفوظ مقام تک پہنچایا اور وہ ترک ائیرلائن کی ایک پرواز کے ذریعے لندن پہنچ گئی، جہاں جہاز سے اترتے ہی اسے گرفتار کرلیا گیا۔
ترینہ شکیل کی اس سے پہلے انٹرنیٹ پر تصاویر بھی سامنے آچکی ہے جن میں وہ اپنے ننھے بچے کے ساتھ کلاشنکوف اٹھائے نظر آتی ہے۔ اس کے خلاف جنگجوﺅں سے تعلقات اور انٹرنیٹ پر دہشتگردی سے متعلقہ مواد پھیلانے کے الزامات کے تحت تحقیقات کی جارہی ہیں۔

Share this

Related Posts

Previous
Next Post »

Comment here

adfly