کمپنیوں کو واٹس ایپ صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی کی اجازت

جیسے جیسے انٹر نیٹ پر دہشت گردی اور سائبر کرائم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے ویسے ویسے حکومتیں خفیہ طور پر یا پھر قوانین کے ذریعے صارفین کی معلومات حاصل کر رہی ہیں اور اب ایک نئے قانون میں عدالت نے کمپنیوں کو اپنے ملازمین کے پرائیویٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔
یورپی یونین کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ برطانیہ بھر میں کمپنیاں اپنے ملازمین کے واٹس ایپ اور دیگرمیسجنگ سروس پر ذاتی پیغامات کوبھی پڑھ سکتی ہیں۔ یورپین کورٹ آف ہیومین نے ایک کمپنی کی جانب سے دائر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کام کے اوقات اپنے ملازمین کے پیغامات پڑھ سکتی ہے اور ایسا کرنا ان کا حق ہے۔
رومانیہ کے ایک ملازم کو کمپنی نے کام کے دوران اپنی منگیتر اور بھائی سے میسجنگ کرنے پر نوکری سے نکال دیا تھا جس پر اس نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ ججز کا کہنا تھا کہ کمپنی کے ملازم نے نوکری کے اوقات کے دوران مسیجنگ سروس پر اپنی منگیتر کے ساتھ چیٹنگ کے دوران پروفیشنل نمبرز کا تبادلہ کرکے قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے نے برطانیہ بھر میں اب ہر کمپنی کے لیے اپنے ملازمین کے ذاتی میسجنگ کو جاننے کا راستہ کھول دیا ہے اور عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کردیا ہے کہ جب کوئی ملازم کام پر ہوتا ہے تو اس دوران اس کی میسجنگ کو کمپنی کا دیکھنا حق ہے اور کمپنی ایسے تمام میسجز کے بارے میں اپنے ملازم سے پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔ اس فیصلے سے 8 میں سے ایک جج نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دینا یا پھر کام کے دوران ذاتی مسیجنگ پر پابندی لگانا ملازمین کے ذاتی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

Share this

Related Posts

Previous
Next Post »

Comment here

adfly